دہلی 27/مارچ (ایس او نیوز) دہلی کے آئی جی آئی اسٹیڈیم میں کانگریس صدر راہل گاندھی نے پارٹی کے ’او بی سی سمیلن‘ میں پی ایم مودی پر طنز کسا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج پی ایم مودی نے ملک سے خطاب کیا، لیکن ملک کو 45 منٹ تک انتظار کرایا۔‘‘ انھوں نے پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک سے خطاب کرنے کے دوران پی ایم مودی جی کا چہرہ آپ نے دیکھا؟ پی ایم مودی کے چہرے پر گھبراہٹ صاف دکھائی دے رہی تھی۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ’نیائے‘ کی بات کی تو نریندر مودی کا چہرہ بدل گیا۔ ان کےا ندر ایک خوف ہے، گھبراہٹ ہے کہ اب وہ جانے والے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کانگریس پارٹی کے آنے کا۔
راہل گاندھی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ مودی جی نے جو ’انیائے‘ کیا ہے اس کے بدلے کانگریس پارٹی ’نیائے‘ کرنے جا رہی ہے۔ حکومت بننے پر ہم ملک کے 20 فیصد سب سے غریب خاندانوں کو سالانہ 72 ہزار روپے دینے جا رہے ہیں۔ ہم آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے۔ کبھی 15 لاکھ جیسے جملے نہیں دیں گے۔ ہم سچ کہیں گے۔ ہم ملک کے 20 فیصد سب سے غریب خاندانوں کو اگلے پانچ سال میں 360000 روپے دیں گے۔‘‘
ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’مجھے لوک سبھا میں بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ ملے جو او بی سی طبقہ سے تعلق رکھتےہیں۔ وہ کافی پریشان تھے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ مرکزی حکومت میں اس کی کوئی نہیں سنتا۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ خاموش رہو۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’بی جے پی میں سبھی طاقتیں ایک شخص کے ہاتھ میں ہیں۔ مودی حکومت نے پسماندہ ذات کے لوگوں سے ناانصافی کی ہے ، ہم انھیں انصاف دلائیں گے۔ ہم ’میک اِن انڈیا‘ چاہتے ہیں، ’میک ان امبانی‘ نہیں چاہتے۔‘‘
روزگار کے ایشو پر پی ایم مودی کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ملک کے سامنے بے روزگاری سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ملک کا پسماندہ طبقہ روزگار پیدا کر سکتا ہے کیونکہ آپ چھوٹی چھوٹی تجارت چلاتے ہو، ان سے روزگار پیدا ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان روزگار شروع کرنا چاہتا ہے تو پی ایم مودی ایک روپیہ نہیں دیتے، لیکن اگر کوئی بڑا آدمی اور بڑا تاجر پیسہ مانگتا ہے تو اسے دے دیا جاتا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے آگے کہا کہ ’’لوگ صرف اجازت نہ ملنے کی وجہ سے نیا کاروبار نہیں شروع کر پاتے کیونکہ بزنس شروع کرنے کے لیے کئی طرح کی اجازت مطلوب ہوتی ہیں۔ لیکن ہم نے طے کیا ہے کہ لوگ بزنس شروع کریں اور پرمیشن تین سال بعد لیں۔ ہم نے اپنے منشور میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔‘‘
اس دوران کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ آئندہ وقت میں ہماری پارٹی میں او بی سی سے تعلق رکھنے والے چہروں کی تعداد بڑھے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے فیصلہ لیا ہے کہ ہم دلت، محروم، مظلوم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پارٹی میں جگہ دی جائے گی۔‘‘ رافیل معاہدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پی ایم مودی فرانس گئے اور رافیل معاہدہ کو بدل دیا۔ 516 کروڑ کا طیارہ 1600 کروڑ روپے میں مودی حکومت نے خرید لیا۔